بھٹکل 28/اکتوبر (ایس او نیوز) رکن اسمبلی منکال وئیدیا کے بیان کے مطابق مرڈیشور میں مین روڈ کی توسیع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کی لاگت 19کروڑ روپے ہے۔اس کے علاوہ کارے ہلّا نالے پر 1کروڑ روپے کی لاگت سے ایک نیا پل تعمیر کیاجائے گاجس مطالبہ یہاں کے عوام بہت دنوں سے کر رہے تھے۔
رکن اسمبلی نے مرڈیشور میں مین روڈ پر عوام کے ساتھ روڈ شو کرتے ہوئے سڑک کے آس پاس واقع دکانداروں اور مالکین مکان سے مل کر انہیں سیاحتی مرکز ہونے کی وجہ سے شہر کی ترقی کی اہمیت کا احساس دلایا اور سڑک کی توسیع کے لئے پوری طرح تعاون کرنے کی گزارش کی۔اس موقع پر کچھ لوگوں نے توسیع کے لئے اپنی ذاتی جگہ دینے سے انکار کیا تو کچھ افراد نے اپنے طور پرہی رضامندی ظاہر کی۔کہتے ہیں کہ جو لوگ ا س کے لئے راضی نہیں تھے بعد میں رکن اسمبلی کی طرف سے بہت زیادہ سمجھانے بجھانے کے بعد وہ بھی راضی ہوگئے ہیں۔ایم ایل اے نے افسران کو ہدایت دی کہ روڈ کی توسیع کے لئے آس پاس کی جگہ مالکوں کی مرضی سے ہی حاصل کرنے کے بعد ہی کام کا آغاز کیاجائے۔
اس موقع پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرڈیشور ایک مشہور مقام ہونے کے علاوہ انٹرنیشنل سطح پر سیاحتی مرکز بھی ہے۔یہاں آنے والے بھکتوں اور سیاحوں کو سڑکوں کی تنگی کی وجہ سے کبھی کبھار بہت ہی زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔یہاں پر ٹریفک کا جام ہوجانا روزانہ کا معمول بن گیا ہے۔ بارش کے دنوں میں کارے ہلّا نالے کا پانی سڑک پر آجانے سے الگ مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کا حل نظر میں رکھتے ہوئے مین روڈ کی ترقی اور توسیع کا منصوبہ بنا یا گیا ہے۔اس کے لئے مین روڈ کو ریاستی ہائے وے ڈپارٹمنٹ میں منتقل کرتے ہوئے میں ریاستی ہائی وے والوں سے 4کروڑ روپے منظور کروالئے ہیں۔فی الحال مرڈیشور مین گیٹ سے تعمیری اور توسیعی کام کا آغاز ہوگیا ہے۔اور عوا م کی طرف سے پورا تعاون مل رہا ہے۔
مسٹر وئیدیا نے بتایا کہ مرکز سے ریاستی حکومت کو ملنے والے4,500کروڑ روپے فنڈ میں سے ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے نے ضلع شمالی کینر اکے لئے 95کروڑ روپے حاصل کیے تھے۔ اس میں سے بھٹکل علاقے کو 28کروڑ روپے دئے ہیں اور 15کروڑ روپے مرڈیشور مین روڈ کی توسیع، گٹر کی تعمیروغیرہ کے لئے فراہم کیے ہیں۔مرڈیشور میں سڑک کی توسیع کاکام آئندہ 6مہینوں کے اندر مکمل ہوجا ئے گا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ توسیع کے وقت مندر کا جو تالاب ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس علاقے میں یک طرفہ (ون سے) ٹریفک کا نظام لاگو کیا جائے گا۔
اس موقع پر ایم ایل اے کے ساتھ گرام پنچایت کے عہدیداران کے علاوہ دیگر افسران موجود تھے۔